ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاجر مزدوروں کو ان کے گاؤں پہنچا کر لوٹنے والے کے ایس آر ٹی سی اسٹاف کے لئے گھر میں داخلہ ممنوع

مہاجر مزدوروں کو ان کے گاؤں پہنچا کر لوٹنے والے کے ایس آر ٹی سی اسٹاف کے لئے گھر میں داخلہ ممنوع

Sat, 02 May 2020 13:26:59    S.O. News Service

کاروار،2؍مئی (ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایت کے مطابق سیکڑوں مہاجر مزدوروں کومختلف اضلاع میں ان کے گھر پہنچاکر واپس لوٹنے والے ضلع شمالی کینرا کے کے ایس آر ٹی سی اسٹاف کے لئے ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے، کیونکہ ان میں س بہت سے لوگ کرایے کے مکان میں رہتے ہیں اور مکان مالکوں نے ان لوگوں کو گھر میں داخل ہونے سے منع کردیا ہے۔

 بتایا جاتا ہے کہ مزدروں کو ان کے گاؤں تک پہنچانے کے بعد جب ڈرائیور اور کنڈکٹر وغیرہ خود اپنی رہائش گاہ پر پہنچے تو مکان مالکوں نے ان سے کہا کہ وہ لوگ چونکہ کورونا وباء سے متاثرہ علاقوں سے ہوکر آئے ہیں اس لئے ان کے ذریعے یہاں بھی وائرس پہنچنے کے امکانات ہیں۔ اس لئے ان لوگوں کو الگ تھلگ مقام پر کوارنٹین میں رہنا ہوگا۔اب کے ایس آر ٹی سی عملہ کے لوگ یہ سوال کررہے ہیں کہ ہمارے بیوی بچے جب اس گھر میں موجود ہیں تو ان کی فکر اور تشویش ہمیں رہے گی، انہیں چھوڑ کر ہم کس طرح دوسری جگہ جاکر رہیں؟اب اس پیچیدہ صورتحال میں ہمیں کیا کرنا ہے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ مسئلہ تحصیلدار کے علم میں لانے پر ان کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں دکھایاگیا۔اب ہمارے سامنے کرایہ کا مکان خالی کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔

مزدوروں کوان کے گھر پہنچانے کے دوران ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو جو تکلیف اٹھانی پڑی تھی اس کے بارے میں ایک ڈرائیور نے بتایا کہ 48 گھنٹے تک سفر کرنے اورافسران کی طرف سے صحیح روٹ چارٹ نہ دینے کی وجہ سے انہیں بہت ہی زیادہ مصائب سے گزرنا پڑا۔ اس سفر کے دوران 49مرتبہ بخار کے لئے جانچ کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔صرف ایک وقت رات کا کھانا کھانے کے بعد دو دن تک فاقے سے رہنا پڑا۔کہیں سے پینے کے لئے ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملا۔پھر بھی ہم نے اپنا فرض پوری طرح نبھایا۔اور اس کا انجام یہ ہوا ہے کہ ہمیں اپنا کرایے کا مکان خالی کرنا پڑرہا ہے۔اب ایسے حالات میں گھروالوں کے ساتھ کہاں جائیں، ہمیں خود اس کا پتہ نہیں ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرضلع انتظامیہ یہ مسائل حل نہیں کرتی ہے تو ایسے تلخ تجربے کے بعد کیا کے ایس آر ٹی سی کا عملہ پھر دوبارہ مہاجر مزدوروں کو یا کسی اور کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے تیار ہوگا؟ 


Share: